ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / گرام پنچایت الیکشن میں امیدوار خاتون کا پولیس کے سامنے کیا گیا اغوا۔ کیا بھٹکل میں چلی ہے بہار ی سیاست کی ہوا؟

گرام پنچایت الیکشن میں امیدوار خاتون کا پولیس کے سامنے کیا گیا اغوا۔ کیا بھٹکل میں چلی ہے بہار ی سیاست کی ہوا؟

Tue, 15 Dec 2020 13:14:05    Vasanth Devadiga

بھٹکل،15؍دسمبر (ایس او نیوز) بھٹکل تعلقہ کے کائکینی گرام پنچایت الیکشن میں امیدوار بنی درج فہرست قبیلےسے تعلق رکھنے والی ایک خاتون امیدوار جب اپنا پرچہ نامزدگی واپس لینے کے لئے پہنچی تو اس کو پولیس کی موجودگی میں ہی ایک گروہ نے راستے پر روک لیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس کو اٹھا کرکمپاؤنڈ کی دیوار پھاندنے کے بعد کار میں ٹھونس کر لے بھاگے ۔اور  وہاں پرموجود لوگ حیران و پریشان ہوکریہ منظر دیکھتے رہ گئے۔

بھٹکل کے عوام اور سیاسی حلقوں میں اس واقعے سے  کھلبلی سی مچ گئی اور لوگ پولیس کے بندوبست پر سوال اٹھاتے ہوئے یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ کیا بھٹکل میں بھی بہاری   طرز ِسیاست کی ہواچل پڑی ہے ؟ کیا اس مرتبہ یہاں گرام پنچایت انتخابات پرامن اور منصفانہ انداز میں منعقد ہونگے؟

بتایا جاتا ہے کہ کائکینی گرام پنچایت کے شیرانی علاقے کی رہنے والی درج فہرست قبیلے سے  تعلق رکھنے والی سنّی  سنّو گونڈا نامی خاتون نے  کوٹدامکّی وارڈ سے ریزرو سیٹ کے لئے پرچہ نامزدگی داخل کیا تھا۔جانکاروں کے مطابق اس سیٹ پر سنّی گونڈا کو بی جے پی کے حامیوں نے کھڑا کیا تھا۔لیکن بعد میں سنّی گونڈا نے کانگریس  حامیوں کے گروہ میں شامل ہوتے ہوئے اپنا پرچہ واپس لینے کا فیصلہ کرلیا۔ادھر بی جے پی والے الزام لگانے لگے کہ کانگریسیوں نے ان کے امیدوار کا اغوا کرلیا ہے۔

اسی دوران جب پرچہ نامزدگی واپس لینے کا آخری وقت قریب آیا توتقریباً 2.45 منٹ پر کچھ کانگریس حامی لیڈروں کی کار میں سوار ہوکر پنچایت دفتر کے سامنے آپہنچی۔ اسی موقع کے انتظار میں کھڑے ہوئے مخالف گروہ کے اراکین نےکارسے اترتے ہی  سنّی کو آڑے ہاتھوں لیااور دیکھتے ہی دیکھتے اسے اٹھاکر پنچایت کمپاؤنڈ دیوار کو پھلانگ کر باہر دوڑ پڑے۔ پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت سڑک کنارے ایک کار کھڑی ہوئی تھی، جس میں اغواکاروں نے سنّی گونڈا کو ٹھونس  کر موقع پر سے فرار ہوگئے۔

حالانکہ کل پیر کے دن پنچایت احاطے میں صبح سے ہی پولیس کا بندوبست کیا گیا تھا۔لیکن کہا جاتا ہے کہ جیسے ہی سنّی گونڈا اپنا پرچہ واپس لینے کے لئے پنچایت احاطے میں داخل ہوئی  تو وہاں پر بندوبست کے لئے تعینات پولیس والے اپنی جگہ سے کھسک  کر کھڑے ہوگئے۔ جب کمپاؤنڈ میں سنّی گونڈا کا اغوا ہورہاتھا تو انہوں نے مداخلت نہیں کی ، اورجب اغواکرنے ولے اس کو لے کر کار میں فرار ہونے لگےتو دو ایک پولیس والے کار کے پیچھے دوڑ تے نظر آئے، جسے دیکھ کر وہاں پر کھڑے ہوئے لوگ اپنی ہنسی روک نہیں پائے۔ جبکہ بھٹکل اے ایس پی نکھل   اس ناخوش گوار واقعے کے بس ایک تماشائی کی طرح دیکھتے رہ گئے۔

اس واقعے کے تعلق سے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئےمغربی زون کے آئی جی پی دیوجیوتی راو نے کہا کہ’’بھٹکل کائکینی میں پیش آئے اس معاملے کے سلسلے میں ضروری معلومات حاصل کرکے مناسب کارروائی کی جائے گی۔‘‘

عام لوگوں کا خیال ہے کہ کائکینی کا علاقہ سیاسی طور پرپچھلے کچھ عرصے سے بہت ہی زیادہ حساس ہوگیا ہے۔ چاہے بینکوں کے انتخابات ہوں، گرام پنچایت ہو، ضلع پنچایت ہو، اسمبلی یا پارلیمانی انتخابات ہوں، اس علاقے میں دو  اہم سیاسی پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے گروہوں کے بیچ تناتنی اور کشیدگی کے علاہ جھگڑا اور مارپیٹ عام ہوگئی ہے ور اب بات  امیدواروں کےاغوا تک پہنچ گئی ہے ۔ اور ان حالات  پر  قابو پانے میں محکمہ پولیس بری طرح ناکام ہوگیا ہے۔     


Share: